بعض جگہ ان سے ہنسی اور مذاق تک کیا جاتا ہے خیال رکھو کہ جس عورت سے کبھی بھی نکاح ہوسکے اس سے پردہ ضروری ہے کہ وہ اجنبی ہے اور جس سے کبھی بھی نکاح جائز نہ ہو جیسیداماد،رضاعی،بیٹا،باپ،بھائی،خسر،وغیرہ۔ان سے پردہ ضروری نہیں اگر ان لوگوں سے باقاعدہ پردہ نہ ہوسکے تو کم ازکم گھونگھٹ سے رہنا اور اُن کے سامنے حیا اور شرم سے رہنا ضروری ہے ایسا باریک لباس نہ پہنو جس سے ننگی معلوم ہو اور ایسا لباس نہ پہنو جو پنڈلیوں سے بالکل چمٹ جاتا ہو اور جس سے بدن کا اندازہ ہوتا ہو ہاں اگر اس گھر میں سوائے شوہر وغیرہ کے کوئی اجنبی نہ آتا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں مگر ایسے گھر آج کل مشکل سے ملیں گے۔ڈاکٹر اقبال نے خوب کہاہے۔
چو زہرا باش از مخلوق روپوش
کہ درآغوش شبّیر ے بہ بینی
یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی طرح اللہ والی پردہ داربنو تاکہ اپنی گود میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی اولاد دیکھو۔
اپنی لڑکی کو وہ علم و ہنر ضرور سکھادو جس کی اس کو جوان ہوکر ضرور ت پڑے گی