Brailvi Books

اسلامی زندگی
109 - 158
اجنبی عورت کو سوائے چند صورتوں کے دیکھنا منع ہے (۱)طبیب مریضہ کے مرض کی جگہ کو(۲)جس عورت کے ساتھ نکاح کرنا ہے اس کو چھپ کر دیکھ سکتا ہے ۔(۳)گواہ جو عورت کے متعلق گواہی دینا چاہے۔(۴)قاضی جو عور ت کے متعلق کوئی حکم دینا چاہے۔وہ بھی بقدرِ ضرور ت دیکھ سکتا ہے ۔آوارہ عورتوں سے بھی شریف عورتیں پردہ کریں۔
 (درمختار وردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ ، با ب شروط الصلوٰۃ ،مطلب فی ستر العورۃ،ج۲،ص۹۵تا۱۰۰ملخصاًورد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی النظر والمس،ج۹،ص۶۱۳)
    عورت کو اپنے گھر سے نکلنا بھی منع ہے ۔سوائے چند موقعہ کے (۱)قابلہ یعنی دائی پیشہ کرنے والی عورت گھر سے نکل سکتی ہے۔(۲)شاہدہ گواہی دینے کے لئے عورت قاضی کے گھر جاسکتی ہے(۳)غاسلہ جو عورت مردہ عورتوں کو غسل دیتی ہے وہ بھی اس ضرورت سے نکل سکتی ہے (۴)کاسبہ جس عورت کاکوئی کمائی کرنے والا نہ ہو وہ روزی حاصل کرنے کیلئے گھر سے نکل سکتی ہے (۵)زائرہ ۔والدین اور خاص اہلِ قرابت سے ملنے کیلئے بھی گھر سے نکل سکتی ہے وغیرہ اگر اس کی پوری تحقیق کرنا ہو تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی کتاب مروج النجا لخروج النساء کا مطالعہ کرو۔ہم نے جو کہا ان موقعوں میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ پردہ سے نکلے اس طرح نہ نکلے جیسے آ ج کل رواج ہے کہ یا تو بے برقع باہر پھرتی ہیں یا اگر برقع ہے تو منہ کھلا ہوا اور برقع بھی نہایت خوش نما اور چمکدار کہ دوسرے مردوں کی اس پر خواہ مخواہ نظر پڑے یہ جائز نہیں یہ احکام تھے گھر سے باہر نکلنے کے۔ اب رہا سفر کرنا اس کے متعلق یہ ضرور یاد رکھو کہ عورت کو اکیلے یا کسی اجنبی کے ساتھ سفر کرنا حرام ہے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔آجکل جو رواج ہوگیا ہے کہ گھر کو خط لکھ دیا
Flag Counter