عورت کو اپنے گھر سے نکلنا بھی منع ہے ۔سوائے چند موقعہ کے (۱)قابلہ یعنی دائی پیشہ کرنے والی عورت گھر سے نکل سکتی ہے۔(۲)شاہدہ گواہی دینے کے لئے عورت قاضی کے گھر جاسکتی ہے(۳)غاسلہ جو عورت مردہ عورتوں کو غسل دیتی ہے وہ بھی اس ضرورت سے نکل سکتی ہے (۴)کاسبہ جس عورت کاکوئی کمائی کرنے والا نہ ہو وہ روزی حاصل کرنے کیلئے گھر سے نکل سکتی ہے (۵)زائرہ ۔والدین اور خاص اہلِ قرابت سے ملنے کیلئے بھی گھر سے نکل سکتی ہے وغیرہ اگر اس کی پوری تحقیق کرنا ہو تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی کتاب مروج النجا لخروج النساء کا مطالعہ کرو۔ہم نے جو کہا ان موقعوں میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ پردہ سے نکلے اس طرح نہ نکلے جیسے آ ج کل رواج ہے کہ یا تو بے برقع باہر پھرتی ہیں یا اگر برقع ہے تو منہ کھلا ہوا اور برقع بھی نہایت خوش نما اور چمکدار کہ دوسرے مردوں کی اس پر خواہ مخواہ نظر پڑے یہ جائز نہیں یہ احکام تھے گھر سے باہر نکلنے کے۔ اب رہا سفر کرنا اس کے متعلق یہ ضرور یاد رکھو کہ عورت کو اکیلے یا کسی اجنبی کے ساتھ سفر کرنا حرام ہے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔آجکل جو رواج ہوگیا ہے کہ گھر کو خط لکھ دیا