| اسلامی زندگی |
گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے جب ہم باہر کی ہوا کھاتے ہیں تو انکو اس نعمت سے کیوں محروم رکھا جائے دوسرے یہ کہ عورت کو پردے میں رکھنے کی وجہ سے اس کو تپِ دق ہوجاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان کو باہر نکالا جائے۔
جواب:اوّل سوال کا جواب تو یہ ہے کہ گھر عورت کیلئے قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے گھر کے کاروبار اور اپنے بال بچّوں کودیکھ کر وہ ایسی خوش رہتی ہیں جیسے چمن میں بُلبل، گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں ،بلکہ عزت وعصمت کی حفاظت ہے اس کو قدرت نے اسی لئے بنایا ہے بکری اسی لئے ہے کہ رات کو گھر رکھی جائے اور شیر چیتا اور محافظ کتا اسلئے ہے کہ انکو آزاد پھرایا جائے اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے میں ہے اسکو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے۔
دوسرے سوال کا جواب میں کیا دوں ،خود تجربہ دے رہا ہے وہ یہ کہ عورت کیلئے پردہ تپ دق کا سبب نہیں ہماری پرانی بزرگ عورتیں گھر کے دروازے سے بھی بے خبر تھيں مگر وہ جانتی بھی نہ تھیں کہ تپ دق کسے کہتے ہیں اور آج کل بے پردگی میں اوّل نمبر دو صوبہ ہیں ایک کاٹھیاواڑ ،دوسراپنجاب، مگر اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ان ہی دونوں صوبوں میں تپ دق زیادہ ہے یوپی میں عام طورپر شریفوں کی بہو بیٹیاں پردہ نشین ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں دق بہت ہی کم ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دق ہے ہی نہیں تو بھی بے جا نہ ہوگا۔جناب اگر پردہ سے دِق پیدا ہوتی ہے تو مردوں کو دِق کیوں ہوتی ہے۔
دوستو!دِق کی وجہ کچھ اور ہے یاد رکھو!تندرستی کے دوبڑ ے اصول ہیں ان کی