Brailvi Books

اسلامی زندگی
106 - 158
ایک کودکھانے سے خطرہ ہے کہ ٖکوئی چوری کرلے۔اسی طرح عورت کو چھپانا اور غیروں کو نہ دکھانا ضروری ہے۔
    (۲)عورت گھر میں ایسی ہے جیسے چمن میں پھول اور پھول چمن میں ہی ہر ابھرا رہتا ہے اگر توڑ کر باہر لایا گیا تو مرجھا جائیگا۔اسی طرح عورت کا چمن اس کا گھر اور اسکے بال بچے ہیں اسکو بلاوجہ باہر نہ لاؤ ورنہ مرجھا جائے گی۔
    (۳)عورت کا دل نہایت نازک ہے بہت جلد ہر طرح کا اثر قبول کرلیتا ہے اسلئے اس کو کچی شیشیاں فرمایا گیا۔ہمارے یہاں بھی عورت کو صنِف نازک کہتے ہیں اور نازک چیز وں کو پتھروں سے دور رکھتے ہیں ۔کہ ٹوٹ نہ جائیں،غیروں کی نگاہیں اس کیلئے مضبوط پتھر ہے اسلئے اس کو غیروں سے بچاؤ۔
     (۴) عورت اپنے شوہر اور اپنے باپ دادا بلکہ سارے خاندان کی عزت اور آبرو ہے اور اس کی مثال سفید کپڑے کی سی ہے ،سفید کپڑے پر معمولی سا داغ دھبہ دور سے چمکتا ہے اور غیروں کی نگاہیں اس کے لئے ایک بد نما داغ ہیں،اس لئے اس کو ان دھبوں سے دور رکھو۔
    (۵) عورت کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ اس کی نگاہ اپنے شوہر کے سوا کسی پر نہ ہو، اسلئے قرآن کریم نے حوروں کی تعریف میں فرمایا
قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ( الرحمن :56)
    اگر اس کی نگاہ میں چند مرد آگئے تو یوں سمجھو کہ عورت اپنے جوہر کھوچکی ،پھر اسکا دل اپنے گھر بار میں نہ لگے گا جس سے یہ گھر آخر تباہ ہوجائیگا۔
اعتراض:بعض لوگ پردہ کے مسئلہ پر دو اعتراض کرتے ہیں اوّل یہ کہ عورتوں کا
Flag Counter