نوٹ ضروری:جن احادیث میں عورتوں کا باہر نکلنا آتا ہے وہ یا تو پردہ فرض ہونے سے پہلے تھایا کسی ضرورت کی وجہ سے پردہ کے ساتھ تھا۔ان احادیث کو بغیر سوچے سمجھے بوجھے بے پردگی کیلئے آڑ بنانا محض نادانی ہے اسی طرح اس زمانہ میں عورتوں کا جہادوں میں شرکت کرنا اس وجہ سے تھا کہ اسوقت مردوں کی تعداد تھوڑی تھی اب بھی اگر کسی جگہ مسلمان مرد تھوڑے ہوں اور کفّار زیادہ اور جہاد فرض عین ہوجائے تو عورتیں جہاد میں ضرور جائیں ان جہادوں کو اس زمانہ کی بے حیائی کیلئے آڑ نہ بناؤ۔ اب جہادکے بہانہ سے عورتوں کو مردوں کے سامنے ننگا پریڈ کرایا جاتا ہے بعض دفعہ مجاہدین نے ضرورتاً گھوڑوں کے پیشاب پئے ،درختوں کے پتے کھائے ،کیا اب بھی بلا ضرورت یہ کام کرائے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ وہ وقت نہ لائے جب جہاد میں عورتوں کی ضرورت پڑے۔یہاں تک تو نقلی دلائل سے ہم نے پردہ کی ضرورت ثابت کردی اب عقلی دلیلیں بھی سنيئے۔