Brailvi Books

اسلامی زندگی
103 - 158
   (۳)ایک لڑائی میں حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لے جارہے ہیں آگے آگے حضرت آنجشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ گیت گاتے ہوئے جارہے ہیں لشکر کے ساتھ کچھ باپردہ عورتیں بھی ہیں حضرت آنجشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوش آوازتھے ارشاد فرمایا:اے آنجشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا گیت بند کرو کیونکہ میرے ساتھ کچی شيشیاں ہیں۔
 (مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الآدب ، باب البیان والشعر ، الفصل الثانی ، الحدیث ۴۸۰۶ ، ج ۳ ، ص ۱۸۸) (وصحیح مسلم ،کتاب الفضائل ، باب رحمۃالنبیصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، الحدیث ۲۳۲۳ ، ص ۱۲۶۹)
    اس میں عورتوں کے دلوں کو کچی شیشیاں فرمایا ،جس سے معلوم ہوا ہے کہ پردہ میں رہ کر بھی عورت مرد کا اور مرد عورت کا گانا نہ سنیں ۔
    (۴)حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ میں عورتوں کو بھی حکم تھا کہ نمازِ عید اور دوسری نمازوں میں حاضر ہوا کریں اسی طرح وعظ کے جلسوں میں شرکت کیا کریں کیونکہ اسلام بالکل نیانیا دنیا میں آیا تھا ۔اگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے وعظ عورتیں نہ سنتیں تو شریعت کے حکم اپنے لئے کیسے معلوم کرتیں مگر پھر بھی ان کے نکلنے میں بہت پابندیاں لگادی گئی تھیں کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں ،بیچ راستہ کسی غیر سے بات نہ کریں فجر کی نماز اس قدر اندھیرے میں پڑھی جاتی تھی کہ عورتیں پڑھ کر نکل جائیں اور کوئی پہچان نہ سکے عورتیں مردوں سے بالکل پیچھے کھڑی ہوتی تھیں لیکن حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خلافت کے زمانہ میں ان کو مسجدوں میں آنے اور عید گاہ جانے سے بھی روک دیا عورتوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے شکایت کی کہ ہم کو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نیک کاموں سے روک دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا کہ اگر حضورعلیہ الصلاۃوالسلام بھی اس زمانہ کو دیکھتے تو عورتوں کو مسجدوں سے
Flag Counter