یعنی اے مسلمانو!جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی استعمال کی چیز مانگو،توپردے کے باہر سے مانگو۔(پ22،الاحزاب:53)
دیکھو بیویوں کو اُدھر گھروں میں روک دیا اور مسلمانوں کو باہر سے کوئی چیز مانگنے کا یہ طریقہ سکھایا۔
(۲)مشکوٰۃبابُ النظرالی لمخطوبہ
میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنی دو بیویوں حضرتِ امِ سلمہ اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے پاس تشریف فرما تھے کہ اچانک حضرت عبد اللہ ابن مکتوم جو کہ نابینا تھے آگئے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان دونوں بیویوں سے فرمایا:کہ
ان سے پردہ کرو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ تو نابینا ہیں فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو۔
( جا مع التر مذی ،کتاب الادب ، باب ماجاء ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۲۷۸۷ ، ج۷ ، ص ۳۵۲)
اس سے معلوم ہوا کہ صرف یہ ہی ضروری نہیں کہ مرد عورت کو نہ دیکھے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اجنبی عورت غیر مرد کو نہ دیکھے ۔دیکھو یہاں مرد نابینا ہیں مگر پردہ کا حکم دیا گیا۔