| اسلامی زندگی |
لئے عورتوں کو وہ چیزيں دیں جس سے اس کو مجبوراً گھر میں بیٹھنا پڑے۔اور مردوں کو اس سے آزاد رکھا۔جیسے بچے جننا ،حيض و نفاس آنا ۔ بچوں کو دودھ پلانا وغیرہ اسی لئے پچپن سے ہی لڑکوں کو بھاگ دوڑ،اُچھل کود کے کھیل پسند ہیں جیسے ،کبڈی، کسرت،ڈنڈلگانا وغیرہ اور لڑکیوں کو قدرتی طورپر وہ کھیل پسند ہیں جن میں بھاگنا دوڑنا نہ ہو بلکہ ایک جگہ بيٹھارہنا پڑے جیسے گڑیاسے کھیل ۔سینا پرونا چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکانا آپ نے کسی چھوٹی بچی کو کبڈی کھیلتے ،ڈنڈ لگاتے نہ دیکھا ہوگااس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے لڑکوں کو باہر کیلئے اور لڑکیوں کوگھرکیاندرکیلئے پیداکیا ہے۔اب جوشخص عورتوں کوباہرنکالےیا مردو ں کو اندر رہنے کا مشورہ دے وہ ایسا ہی دیوانہ ہے جیسا کہ جو ٹوپی پاؤں میں اور جوتا سر پر رکھے ۔
جب آپ نے اتنا سمجھ لیا کہ مرد اور عورت ایک ہی کام کیلئے نہ بنے بلکہ علیٰحدہ علیٰحدہ کاموں کیلئے تو اب جو کوئی ان دونوں فریقوں کو ایک کام سپرد کرنا چاہے وہ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے اس کو کبھی بھی کامیابی نہ ہوگی۔گویا یوں سمجھو کہ عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دوپہیئے ہیں اندورنی اور گھریلو دونوں کیلئے عورت گھر اور مرد باہر کیلئے اگر آپ نے عورت اور مرد دونوں کو باہر نکال دیا تو گویا آپ نے زندگی کی گاڑی کا ایک پہیہ نکال دیا تویقینا گاڑی نہ چل سکے گی۔اب ہم عقلی اور نقلی دلائل پر دہ کے متعلق عرض کرتے ہیں ۔
(۱)سب مسلمان جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ایسی مائیں کہ تمام جہان کی مائیں ان کے قدم پاک پر قربان اگر وہ بیویاں مسلمانوں سے پردہ نہ کرتيں تو ظاہراً کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا تھاکیونکہ