قدرت نے اپنی مخلوق کو علیٰحدہ علیٰحدہ کاموں کیلئے بنایا ہے اور جس کو جس کام کیلئے بنایا ہے اسکے مطابق اس کا مزاج بنایا،ہر چیز سے قدرتی کام لینا چاہے جو خلافِ فطرت کام لے گا وہ خرابی میں پڑے گا۔اسکی سینکڑوں مثالیں ہیں ۔ٹوپی سر پر رکھنے اور جوتا پاؤں میں پہننے کیلئے ہے جو جوتا سر پر باندھ لے اور ٹوپی پاؤں میں لگالے وہ دیوانہ ہے ،گلاس پانی پینے اور اگالدان تھوکنے کے لئے ہے جو کوئی اگالدان ميں پانی پئے اور گلاس میں تھوکے وہ پورا پاگل ہے، بیل کی جگہ گھوڑا اور گھوڑے کی جگہ بیل کام نہیں دے سکتا۔اسی طرح انسان کے دو گروہ کئے گئے ہيں ایک عورت دوسرے مرد۔عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کیلئے بنایا گیا ہے اور مرد کو باہر پھر کر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بنایا ۔مثل مشہور ہے کہ کہ پچاس عورتوں کی کمائی میں وہ برکت نہیں جو ایک مرد کی کمائی میں ہے اور پچاس مرد وں سے گھر میں رونق نہیں جو ایک عورت سے ہے، اسی لئے شوہر کے ذمہ بیوی کا سارا خرچ رکھا ہے اور بیوی کے ذمہ شوہر کا خرچہ نہیں ۔کیونکہ عورت کمانے کیلئے بنی ہی نہیں اسی