( دُرِّ مُختار،ج 2، ص 158۔170،بہارِ شریعت، حصّہ 3 ص75)
(1) تکبيرِتَحْريمہ : دَر حقيقت تکبيرِتَحْريْمہ (يعنی تکبير اُولیٰ ) شرائطِ نَماز ميں سے ہے مگرنَماز کے اَفعال سے باِلکل ملی ہوئی ہے اِس لئے ا سے نَماز کے فرائض سے بھی شُمار کيا گيا ہے۔
* جو اسلامی بہن تکبير کے تَلَفُّظْ پر قادِر نہ ہومَثَلاًگونگی ہو يا کسی اور وجہ سے زَبان بند ہو گئی ہو اُس پر تَلَفُّظ لازِم نہيں، دل ميں اِرادہ کافی ہے۔
*لفظِ اللہ کو '' اٰللہُ'' يا اَکْبَرکواٰکْبَر یا '' اَ کبَار ''کہا نَماز نہ ہو گی بلکہ اگر ان کے معنیٔ فاسِدہ سمجھ کر جان بوجھ کر کہے تو کافِر ہے۔
(2) قِيام : * کمی کی جانب قِيام کی حدیہ ہے کہ ہاتھ بڑھائے تو گُھٹنوں تک