* فرض نَماز ميں نيّتِ فرض بھی ضَروری ہے مَثَلاً دل ميں یہ نیَّت ہو کہ آج کی ظُہر کی فرض نَماز پڑھتی ہوں۔
( دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج2ص117 )
*اَصح (يعنی دُرُست ترين) یہ ہے کہ نَفْل، سنّت اور تراويح ميں مُطْلَق نَماز کی نیَّت کافی ہے مگر احتِیاط یہ ہے کہ تَراويح ميں تَراويح يا سنّتِ وَقت کی نیَّت کرے اور باقی سنّتوں ميں سنّت يا مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کی مُتابَعَت ( یعنی پَیروی) کی نیَّت کرے، اس لئے کہ بعض مَشائخ کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلام ان ميں مُطْلَق نَماز کی نیَّت کو نا کافی قرار ديتے ہيں ۔
( مُنْیَۃُ الْمُصَلِّی ص 225 )
* نَمازِ نَفْل ميں مُطلَق نَماز کی نیَّت کافی ہے اگر چہِ نفل نیَّت ميں نہ ہو ۔
(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج 2،ص116)
* یہ نیَّت کہ مُنہ ميرا قِبلہ شريف کی طرف ہے شَرط نہيں۔
( دُرِّ مُختار ، ج 2، ص129)
* واجِب ميں واجِب کی نیَّت کرنا ضَروری ہے اور اسے مُعَيَّن بھی کیجئے مَثَلاً نَذْر، نمازِ بعدِ طواف( واجِبُ الطواف) يا وہ نَفل نَماز جس کے ٹوٹ جانے سے یا جس کو توڑ ڈالنے سے اُس کی قَضا واجِب ہو جاتی ہے* سَجدۂ شکر اگر چہِ نَفل ہے مگر ا س ميں بھی نیَّت ضَروری ہے مَثَلاً دل ميں یہ نیَّت ہو کہ ميں سَجدۂ شکر کرتی ہوں ۔
* سَجدۂ سَہْو ميں بھی ''صاحِبِ نَہرُالْفائِق '' کے نزديك نِيت