Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
94 - 308
ضَحوَه کُبریٰ سے لے کر زَوالِ آفتاب تک۔ ان تينوں اَوقات ميں کوئی نَماز جائز نہيں نہ فرض نہ واجِب نہ نَفْل نہ قَضا۔ ہاں اگر اِس دن کی نَمازِعَصر نہيں پڑھی تھی اور مَکرُوہ وقت شُروع ہو گيا تو پڑھ لے البتَّہ اتنی تاخير کرنا حرام ہے ۔
(عالمگیری ج 1ص52، دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتارج2ص37،بہارِ شریعت حصّہ 3 ص22)
نَمازِ عَصر کے دَوران مکروہ وَقت آجائے تو؟
    غُروبِ آفتاب سے کم سے کم 20مِنَٹ قبل نَمازِ عصر کا سلام پھرجانا چاہئے جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُا لرحمٰن فرماتے ہیں :''نَمازِ عصر میں جتنی تاخیر ہو افضل ہے جبکہ وقتِ کراہت سے پہلے پہلے خَتم ہوجائے ۔ ''
 (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّ جہ ج5ص 156)
 پھراگراس نے احتياط کی اور نماز ميں تَطوِيل(تَط۔وِیْل) کی (یعنی طول دیا)کہ وقتِ کراہَت وسطِ(یعنی دورانِ) نَماز ميں آگياجب بھی اس پر اِعتِراض نہيں۔''
   (ایضاًص 139 )
(5) نیّت:نیّت دل کے پکّے ارادے کا نام ہے۔
( تَنْوِیرُ الْاَبْصَارج2 ص111)
 *زَبان سے نیَّت کرنا ضَروری نہيں البتَّہ دل ميں نیَّت حاضِر ہوتے ہوئے زَبان سے کہہ لينا بہتر ہے ۔
(فتاوٰی عالمگيری ج1ص65)
 عَرَبی ميں کہنا بھی ضَروری نہيں اُردُو وغيرہ کسی بھی زَبان میں کہہ سکتے ہيں ۔
( ملخص ازدُرِّ مُختار،ج 2، ص 113)
 * نیَّت ميں زَبان سے کہنے کا اِعتِبار نہيں يعنی اگر دل ميں مَثَلاًظُہر کی نيّت ہو اور زَبان سے
Flag Counter