Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
92 - 308
بدرَجَۂ اولیٰ مُمانَعَت۔
(بہارِشريعت حصّہ 3ص48)
* بعض اسلامی بہنیں مَلمَل وغيرہ کی باريك چادَرنَماز ميں اَوڑھتی ہيں جس سے بالوں کی سياہی(کالک) چمکتی ہے يا ايسا لباس پہنتی ہيں جس سے اَعضاء کا رنگ نظر آتا ہے ايسے لباس ميں بھی نَماز نہيں ہوتی۔
(3) اِستِقبالِ قِبلہ يعنی نَماز ميں قِبلہ( کعبہ) کی طرف مُنہ کرنا* نَمازی نے بِلا عُذرِشَرعی جان بوجھ کر قِبلہ سے سينہ پھير ديا اگرچِہ فوراً  ہی قِبلہ کی طرف ہو گئی نَماز فاسِد ہو گئی(یعنی ٹوٹ گئی) اور اگر بِلا قَصد(یعنی بِلا ارادہ)پھر گئی اور بَقَدَر تين بار ''سُبْحٰنَ اللہ''کہنے کے وَقفے سے پہلے واپَس قِبلہ رُخ ہو گئی تو فاسِد نہ ہوئی (یعنی نہ ٹوٹی )
(مُنيۃ المصلی ص193البحرالرائق ج1 ص497)
* اگر صِرف مُنہ قِبلے سے پھر ا تو واجِب ہے کہ فوراً  قِبلے کی طرف منہ کر لے اورنَماز نہ جائے گی مگر بِلا عُذر (یعنی بِغیر مجبوری کے) ایسا کرنا مکروہ ِتَحريمی ہے(المرجع السّابِق) *اگر ايسی جگہ پر ہیں جہاں قبلے کی شَناخت (یعنی پہچان) کا کوئی ذَرِيعہ نہيں ہے نہ کوئی ايسا مسلمان ہے جس سے پوچھ کر معلوم کيا جاسکے توتَحَرِّی( تَ۔حَر۔رِی) کیجئے يعنی سوچئے اور جِدھر قِبلہ ہو نا دِل پر جَمے اُدھر ہی رُخ کر لیجئے آپ کے حق ميں وُہی قِبلہ ہے۔
( دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج 2 ص 143 دارالمعرفۃ بیروت)
* تَحَرِّی کر کے نَماز پڑھی بعد ميں معلوم ہوا کہ قِبلے کی طرف نَماز نہيں پڑھی ، نَماز ہو گئی لوٹانے کی حاجت نہيں۔
 ( تَنْوِیرُ الْاَبْصَار ج 2 ص 143 )
Flag Counter