البتّہ اگر دونوں ہاتھ(گِٹّوں تک) ، پاؤں(ٹخنوں تک) مکمَّل ظاہِر ہوں تو ایک مُفْتٰی بِہ قَول پر نَماز دُرُست ہے *اگر ايسا باريك کپڑا پہنا جس سے بدن کا وہ حصّہ جس کانَماز ميں چُھپانا فرض ہے نظر آئے ياجِلد(یعنی چمڑی) کا رنگ ظاہِرہو نَماز نہ ہو گی۔
(بہارِ شريعت ،حصہ 3ص 48،فتاوٰی عالمگيری ج1ص58)
* آج کل باريك کپڑوں کا رَواج بڑھتا جارہا ہے ، ايساکپڑا پہننا جس سے سِتْرِعورت نہ ہو سکے عِلاوہ نَماز کے بھی حرام ہے۔
(بہا رِشريعت ،حصّہ 3ص 48 )
* دَبِيز (يعنی موٹا) کپڑا جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو مگر بدن سے ايسا چِپکا ہوا ہو کہ ديكھنے سے عُضْوْ کی ہَیئَت(ہَے۔اَتْ یعنی شکل و صورت اور گولائی وغیرہ) معلوم ہوتی ہو۔ايسے کپڑے سے اگر چِہِ نَماز ہو جائیگی مگراُس عُضْوْکی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں ۔
ايسا لِباس لوگوں کے سامنے پہننا مَنع ہے اور عورَتوں کے لئے