بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ میں نَمازیں قَضا کر ڈالنے اور بے پردَگی جیسے گناہوں میں گرفتار تھی ۔افسوس! کہ مجھے گناہ کو گناہ سمجھنے کا احساس تک نہ تھا ۔میں فکرِ آخِرت سے غافل اوراسلام کی بنیادی مَعلومات سے جاہِل تھی ۔ دنیاوی آسائشیں مُیَسَّر ہونے کے باوُجُود قلبی سُکون نصیب نہ تھا ۔میں عجیب بے چینی اورگُھٹن کا شکار رہتی تھی ۔الحمدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے سُکونِ قلب مل گیا اور اس کا سبب یوں ہوا کہ چند اسلامی بہنوں کی دعوت پر مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسُنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت ملی ۔وہاں میں نے سنّتوں بھرا بیان سُنا ، اپنے ربِّ قدیر عَزَّوَجَلّ کا ذِکر کیا اس کے بعد ہونے والی رقت انگیز دعا نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں نے رو رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی،میرے بیقرار دل کو چین محسوس ہوااور ایسا لگا گویا میرے دل سے کوئی بوجھ اُتر گیاہے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی اجتماع میں شرکت کی بَرَکت سے میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئی اور تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی ترقّی کے لیے کوشِش کر رہی ہوں۔