Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
306 - 308
49اور 50 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لِلہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾اَوْ یُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجْعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
( پ ۲۵ الشوریٰ ۴۹، ۵۰)
ترجَمۂ کنزالایمان: اللہ ہی کیلئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ،پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اوربیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کر دے بیشک وہ علم و قدرت والا ہے ۔
    صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں،وہ مالِک ہے اپنی نِعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کر ے جسے جوچاہے دے۔ انبیاء علیھم السلام میں بھی یہ سب صورَتیں پائی جاتی ہیں۔حضرتِ سیِّدُنا لُوط عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام و حضرتِ سیِّدُناشُعَیب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف بیٹیاں تھیں کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرتِ سیِّدُناابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف فرزند تھے کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں اور سیِّدُالانبیاء حبیبِ خدا مُحمَّدِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحِبزادیاں اور حضرت سیِّدُنا یحیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ الله علٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے کوئی اولاد ہی نہیں۔
     (خزائن العرفان ص ۷۷۷,فیضانِ سنت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۸۸۱)
Flag Counter