صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں،وہ مالِک ہے اپنی نِعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کر ے جسے جوچاہے دے۔ انبیاء علیھم السلام میں بھی یہ سب صورَتیں پائی جاتی ہیں۔حضرتِ سیِّدُنا لُوط عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام و حضرتِ سیِّدُناشُعَیب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف بیٹیاں تھیں کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرتِ سیِّدُناابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف فرزند تھے کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں اور سیِّدُالانبیاء حبیبِ خدا مُحمَّدِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحِبزادیاں اور حضرت سیِّدُنا یحیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ الله علٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے کوئی اولاد ہی نہیں۔
(خزائن العرفان ص ۷۷۷,فیضانِ سنت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۸۸۱)