اسلامی بہنو!ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں وسوسہ آئے کہ میں بھی تو عرصے سے اجتِماع میں شرکت کرتی اور خوب رو رو کر دُعاء مانگتی ہوں مگر میرے مسائل حل نہیں ہوتے ، میرا بیٹابے اولاد ہے ، بیٹی کا رشتہ نہیں آتا، بڑی بیٹی کی تین بیٹیاں ہیں بے چاری اولادِ نرینہ کیلئے ترستی ہے وغیرہ وغیرہ تو عرض یہ ہے کہ بِالفرض دُعاء کی قَبولیّت کا اَثر ظاہِر نہ ہو تب بھی حَرفِ شکایت زَبان پر نہیں لانا چاہئے۔ ہماری بھلائی کس بات میں ہے اِ س کویقینا اللہ عزوجل ہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں ہر حال میں پاک پروردگار جلَّ جَلَالُہٗ کا شکر گزار بندہ بن کر رَہنا چاہئے۔ وہ بیٹا دے تب بھی اُس کا شکر ، بیٹی دے تب بھی شکر، دونوں دے تب بھی شکر اور نہ دے تب بھی شکر، ہر حال میں شکر شکر اور شکرہی ادا کرنا چاہئے۔پارہ 25 سورۃُ الشُّوریٰ کی آیت نمبر ،