بابُ المدینہ(کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے قبل میں ایک ماڈَرن لڑکی تھی۔ دُنیوی تعلیم حاصل کرنے کا جُنون کی حد تک شوق تھا، فلم بینی کا بھوت تو کچھ ایسا سُوار تھا کہ میں ایک رات میں تین تین چار چار فلمیں دیکھ ڈالتی!اورمَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ گانوں کی بھی ایسی رَسیا تھی کہ گھر کا کام کاج کرتے وقت بھی ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز سے گانے لگا ئے رکھتی ۔ میری ایک بہن کو (جوکہ شادی ہوجانے کے بعد دوسرے شہر میں رہائش پذیر تھیں) دعوتِ اسلامی سے بڑی مَحَبَّت تھی ۔وہ جب کبھی بابُ المدینہ (کراچی )آتیں تو اتوار کے دن دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز