بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے کہ میں مغرِبی تہذیب کی جُنون کی حد تک دِلدادہ تھی حتّٰی کہ لڑکوں کی طرح پینٹ شرٹ پہنا کرتی ، نامحرم مَردوں کے ساتھ بلاجھجک گفتگو کرتی اوربدتمیزقسم کے دوستوں کی صحبت میں رہاکرتی تھی۔ میرے والد صاحِب ہوٹل چلاتے تھے ،میں اتنی بے باک تھی کہ والِد صاحب کے منع کرنے کے باوُجُودہوٹل کے کاؤنٹر پر بیٹھ جایا کرتی تھی !میں ایک اسکول میں پڑھتی تھی،اللہ کی شان کہ اچانک میرے دل میں دینی مدرَسے میں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا!میں نے جب والِد صاحِب سے اس کا اظہار کیا تو انہوں نے موقع غنیمت جانا اور مجھے ہاتھوں ہاتھ دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ (لِلبنات) میں داخِل کروادیا ۔میں نے وہاں قراٰنِ پاک پڑھنا شروع کردیا ۔چند دن بعد ہماری