سے وابَستہ تھے) اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے میرے بھائی جان کوبھی دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی نہ صِرف دعوت دی بلکہ اپنے ساتھ لے جانا شُروع کردیا۔بھائی جان سُنّتوں بھرے اجتماع سے واپَسی پر اجتماع کی رُوداد سناتے جن میں سیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُربِّ الْعِزَّت کا ذِکرِ خیر سننے کو ملتا جس کی وجہ سے مجھے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے اپنائیَّت سی محسو س ہونے لگی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ا ِسی اپنائیَّت کی سوچ نے مجھے پہلی بار 1985 کے سالانہ سنّتوں بھرے اجتماع کی خُصُوصی نِشَست میں شرکت پراُبھارا ۔چُنانچِہ میں بھی اسلامی بہنوں کے ساتھ اجتماع میں شریک ہوئی جہاں ہم نے پردے میں رَہ کر سنّتوں بھرے اجتماع میں ہونے والا بیان سُنا اور رِقّت انگیز دُعا مانگی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی اجتماع میں شرکت کی برکت سے مجھے گناہوں سے توبہ کرنے کی سعادت نصیب ہو ئی،فکر آخِرت ملی ۔جس پر استِقامت پانے کے لیے میں نے مَدَنی اِنعامات پر عمل کرنا شُروع کر دیا ۔مَدَنی انعامات کی برکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰه عزَّوَجَلَّ مجھے چل مدینہ کی سعادت بھی نصیب ہو گئی ۔(1)