بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَل ہمارا گھرانہ آقائے نعمت،مجدِّدِ دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ایک عظیمُ المرتبت خلیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد سے ہے ۔سیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃربِّ الْعِزَّتکے وہ خلیفۂ مکرَّم میری والِدۂ محترمہ کے ناناجان تھے اور ہمارے تمام اہلِ خانہ اُنہیں کے دستِ مبارَک پر بَیعَت تھے۔ ان سے بَیعَت کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ سیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُربِّ الْعِزَّت کی مَحَبَّت و عقیدت رگ وپے میں سرایت کئے ہوئے تھی،لیکن عملی زندگی میں ہماری مثال کَورے کاغذکی سی تھی بالخصوص نمازوں کی پابندی سے محرومی تھی نیزفیشن پرستی اورگانے باجے سننے کی نُحوست چھائی تھی،غصہ اورچِڑچِڑا پن ہماری عادت ثانیہ تھی ۔میرے پھوپھی زاد بھائی نے (جوکہ دعوت اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول