بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک مُعَمَّر(مُ۔عَم۔مَر)اسلامی بہن کاحلفیہ بیان کچھ اس طرح ہے کہ میں مختلف گھریلو مسائل میں گرفتارتھی ۔ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے ،مگرآمَدَنی کم ہونے کی وجہ سے کرایہ بھی وَقت پر نہ دے پاتے۔ بچیاں بھی جوان ہورہی تھیں،اُن کی شادیوں کی فکر الگ کھائے جارہی تھی۔ ایک روز کسی اسلامی بہن سے میری ملاقات ہوئی ، اُنہوں نے میری غم خواری کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی کے ساتھ شرکت کی نیَّت کروائی اور وہاں آ کر اپنے مسائل کے لئے دُعا کرنے کی بھی ترغیب دی ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلّ میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے لگی ۔میں وہاں اپنے مسائل کے حل کے لیے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا بھی کیا کرتی۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے میرے بچّوں کے اَبّو کو اچّھی مُلازَمت مل گئی اورکرم بالائے کرم یہ ہواکہ کچھ ہی عرصے میں ہم نے کرائے کا گھر چھوڑکر اپنا ذاتی مکان بھی خرید لیا۔ اللہُ مُجیب عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیبِ لبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صدقے ،سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کی بَرَکت سے بچیوں کی شادیوں کے فریضے سے عہدہ برآہونے کی طاقت بھی عنایت فرما دی۔ اس طرح دعوتِ اسلامی کے