مرکزالاولیاء (لاہور ) کی ایک ذمّے دار اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میری والِدہ ایک عرصے سے گُردوں کے مرض میں مبتَلاتھیں۔رَبِیْعُ النُّورشریف کے پُرنُور مہینے میں پہلی مرتبہ ہم ماں بیٹی دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے اللہ اللہ اورمرحبا یا مصطَفٰے کی پُرکیف صداؤں سے گونجتے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئے۔شرعی پردہ کرنے کے لئے مَدَنی بُرقع پہننے، آئندہ بھی سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے اورمزید اچّھی اچّھی نیتیں کرکے ہم دونوں گھرلوٹ آئیں۔ رات کے وَقت امّی جان کو یکایک دل کا دَورہ پڑا،سنّتوں بھرے اجتماع میں گونجنے والی اللہ ، اللہ کی مَسحور کُن صداؤں کا نَشہ گویا ابھی باقی تھا شاید اسی لئے میری امّی جان اپنی زندَگی کے آخِری تقریباً25مِنَٹ اللہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا