اب میں اپنے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دیتی ہوں ۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کام کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوتی ہوں ۔ روزانہ'' فکرِ مدینہ ''کے ذَرِیعے مدنی انعامات کے رسالے کے خانے پُر کرکے ہر ماہ جمع کروانا میرا معمول ہے۔ایک روز مجھ پَر رَبّ عَزَّوَ جَلّ َ کا ایسا کرم ہوا کہ میں جتنا بھی شکر کروں کم کم اور کم ہے۔ہُوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے میں جس جگہ بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ،میں بے ساختہ کھڑکی سے باہَر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادَل نظر آتے ہیں۔میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شُروع کردیتی ہوں: