Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
276 - 308
اب میں اپنے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دیتی ہوں ۔ دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کام کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوتی ہوں ۔ روزانہ'' فکرِ مدینہ ''کے ذَرِیعے مدنی انعامات کے رسالے کے خانے پُر کرکے ہر ماہ جمع کروانا میرا معمول ہے۔ایک روز مجھ پَر رَبّ عَزَّوَ جَلّ َ کا ایسا کرم ہوا کہ میں جتنا بھی شکر کروں کم کم اور کم ہے۔ہُوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے میں جس جگہ بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ،میں بے ساختہ کھڑکی سے باہَر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادَل نظر آتے ہیں۔میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شُروع کردیتی ہوں:
 اے صبا مصطفی سے کہہ دینا

غم کے مارے سلام کہتے ہیں
    اچانک میرے سامنے ایک حسین و جمیل اور نورانی چہرے والے بزرگ سفید لباس میں ملبوس سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سرِ مبارَک پر سجائے مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے میں ابھی نظارے ہی میں گُم تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی:''یہ حُضور ِاکرم ،نُورِمُجَسُّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔''پھر میری آنکھ کھل گئی۔ میں اپنی سعادتوں کی اس معراج پر شدّتِ جذبات سے رونے لگی ۔ دل چاہتا تھا کہ آنکھیں بند کروں اور بار بار وُہی منظر دیکھوں۔اب بھی ہر رات اسی اُمّید پر دُرودِ پاک پڑھتے پڑھتے سوتی ہوں کہ کاش!میرے بھاگ دوبارہ جاگ اُٹھیں! ؎
Flag Counter