کُفّار کے ممالک سے درآمد کئے ہوئے(IMPORTED) استِعمال شدہ سُوِیٹر(SWEATER) جُرابَیں، قالین(CARPET) اور دیگرپُرانے کپڑے کہ جب تک ان پرنَجاست کا اثر ظاہِر نہ ہو پاک ہیں بِغیر دھوئے نَماز میں استِعمال کرنے میں حرج نہیں، البتّہ پاک کر لینا مناسِب ہے۔ صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 2 صَفْحَہ127پر فرماتے ہیں:فاسِقوں کے اِستِعمالی کپڑے جن کا نَجِس ہونا معلوم نہ ہو پاک سمجھے جائیں گے مگر بے نَمازی کے پاجامے وغیرہ میں اِحتِياط یہی ہے کہ رُومالی پاک کرلی جائے کہ اکثر بے نَمازی پیشاب کر کے وَیسے ہی پاجامہ باندھ لیتے ہیں اور کفّار کے ان کپڑوں کے پاک کر لینے میں تو بَہُت خیال کرنا چاہیے۔