اسلامی بہن نے اگر نامحرم مَثَلاً بھابھی نے دیور کے کپڑے میں نَجاست دیکھی تو بتانا ضَروری نہیں۔
روئی کا اگر اتنا حصہ نَجِس(ناپاک) ہے جس قَدَر دُھننے سے اُڑ جانے کا گمانِ صحیح ہو تو دُھننے سے(روئی) پاک ہو جائے گی ورنہ بِغیر دھوئے پاک نہ ہو گی، ہاں اگر معلوم نہ ہو کہ کتنی نَجِس(ناپاک) ہے تو بھی دُھننے سے پاک ہو جائے گی۔
(بہار ِشریعت حصّہ ۲ص۱۲۵ )
اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نَجاست جذب نہ ہو ئی ،جیسے چینی کے برتن یا مٹی کا پرانا استِعمالی چکنا برتن یالوہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فَقَط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضَرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔ (اَیضاً۱۲۱ )