(2) يوہيں نالیوں سے برسات کا بہتا پانی پاک ہے جب تک نَجاست کا رنگ، یا بُو، یا مزہ اس میں ظاہِر نہ ہو، رہا اس سے وُضو کرنا اگر اس پانی میں نَجاستِ مَرئِیَّہ(یعنی نظر آنے والی نَجاست) کے اَجزا ء ایسے بہتے جارہے ہوں کہ جو چُلّو لیا جائے گا اُس میں ایک آدھ ذرّہ اس کا بھی ضَرور ہوگا جب تو ہاتھ میں لیتے ہی ناپاک ہو گیا وُضو اس سے حرام ورنہ جائز ہے اور بچنا بہتر ہے۔ ( اَیضاً ) (3) نالی کا پانی کہ بعد بارش کے ٹھہر گیا اگر اس میں نَجاست کے اجزاء محسوس ہوں یا اس کا رنگ و بُو محسوس ہو تو ناپاک ہے ورنہ پاک۔ (اَیضاً)
گلیوں میں کھڑا ہوا بارِش کا پانی
نِچان والی گلیوں اور سڑکوں پر بارِش کا جو پانی کھڑا ہو جاتا ہے وہ پاک ہے اگر چِہ اُس کا رنگ گدلا ہو تا ہے۔ بعض اوقات گٹر کا پانی بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے لیکن یہاں بھی یِہی قاعِدہ ہے کہ ناپاکی کے سبب سے اِس پانی کے رنگ یا مزا یا بُو میں تبدیلی آئی تو ناپاک ہے ورنہ پاک ہاں اگر بارِش تھم گئی، پانی بھی بہنا بند ہو گیا اور دَہ در دہ سے کم ہے اور اُس میں کوئی نَجاست یا اس کے اَجزا نظر آرہے ہیں تو اب ناپاک ہے۔ اِسی طرح اِس میں کسی نے پیشاب کر دیا تو ناپا ک ہو گیا ۔ چپل سے اُڑ کر جوکیچڑ کے چِھینٹے پاجامے کے پچھلے حصّے پر پڑتے ہیں وہ پاک ہیں جب تک یقینی طورپر ان کا ناپاک ہونا معلوم نہ ہو۔