زمین پاک ہوگئی خواہ وہ ناپاکی ہواسے سوکھی ہو یا دھوپ سے یا آگ سے، لہٰذا اس زمین پر نماز پڑھ سکتے ہیں مگر اس زمین سےتَیَمُّم نہیں کرسکتے(2) درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو ،یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہو گئے(جبکہ نَجاست کا اثر رنگ و بو جاتے رہے ہوں) اور اگر اینٹ جَڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے۔ یوہیں دَرَخت یا گھاس(نَجاست)سُوکھنے کے پیشتر کاٹ لیں، تو طہارت (یعنی پاک کرنے) کے ليے دھونا ضروری ہے۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۲ ص ۱۲۳ ) (3) اگر پتّھر ایسا ہو جو زمین سے جُدا نہ ہو سکے تو خشک ہونے سے پاک ہو جائیگا جبکہ نَجاست کا اثر زائل ہو جائے ورنہ دھونے کی ضَرورت ہے۔ (اَیضاً) (4)جو چیز زمین سے مُتَّصِل(یعنی ملی ہوئی) تھی اور نَجِس ہو گئی، پھر خشک ہونے (اور نَجاست کا اثر دُور ہو جانے) کے بعد الگ کی گئی، تو اب بھی پاک ہی ہے۔ ( اَیضاً ص۱۲۴) (5)جو چیز سوکھنے یا رگڑنے وغیرہ سے پاک ہوگئی پھر اس کے بعد گیلی ہوگئی تو وہ چیز ناپاک نہ ہوگی(ایضاً) جیسے زمین پر پیشاب پڑنے سے وہ ناپاک ہوگئی پھر وہ زمین سُوکھ گئی اورنَجاست کا اثرختم ہوگیا تو وہ زمین پاک ہو گئی۔ اب اگر وہ زمین پھر کسی پاک چیز سے گیلی ہوگئی تو ناپاک نہیں ہوگی۔