ہر جانورکی قے اُس کی بِیٹ کاحکم رکھتی ہے یعنی جس کی بِیٹ پاک ہے جیسے چِڑیا یا کبوتر اُس کی قے بھی پاک ہے اور جس کی نَجاستِ خفیفہ ہے جیسے باز یا کَوّا ، اُس کی قے بھی نَجاستِ خفیفہ ۔ اور جس کی نَجاستِ غَلیظہ ہے جیسے بط(بَطَخ) یا مُرغی ، اس کی قے بھی نَجاستِ غَلیظہ۔ اور قے سے مُراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پَوٹے (یعنی مِعدے)سے باہَر نکلے کہ جس جانور کی بِیٹ ناپاک ہے اُس کا پَوٹا مَعدِن نَجاسات(یعنی نَجاستوں کی جگہ) ہے پوٹے سے جو چیز باہَر آئے گی خود نَجِس (ناپاک ) ہو گی یانَجِس سے مل کر آئے گی بَہرحال مِثلِ بِیٹ نَجاست رکھے گی خَفیفہ میں خفیفہ ،غَلیظہ میں غلیظہ،بَخِلاف اُس چیز کے جوابھی پَوٹے تک نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔مَثَلاً مُرغی نے پانی پِیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اُچّھو(1)لگا اور نکل گیا یہ پانی بِیٹ کا
(1) پانی پینے کے دوران بعض اوقات گلے میں پھندا سالگتا ہے اور کھانسی اٹھتی ہے اس کو اچھولگنا کہتے ہیں۔