اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ بخشش نشان ہے:''اللہ عزَّوَجَلَّ کی خاطر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب باہَم ملیں اور مُصافَحَہ کریں اور نبی( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گُناہ بخْش دئیے جاتے ہیں۔''
(مسند ابی یعلٰی ،ج۳،ص۹۵، حدیث۲۹۵۱ دارالکتب العلمیہ بیروت )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اسلامی بہنو! ہر ایک کاطَبعی مزاج الگ الگ ہوتا ہے ایک ہی دوا کسی کے لئے آبِ حیات کاکام دکھاتی ہے تو کسی کیلئے موت کا پیغام لاتی ہے لہٰذا کتابوں میں لکھے ہوئے (اور اس کتاب کے بھی ) یا عوامُ النّاس کے بتائے ہوئے علاج شروع کرنے سے قبل اپنی طبیبہ سے مشورہ کر لینا ضروری ہے ۔ ایک مَدَنی پھول یہ بھی قبول کر لیجئے کہ بدل بدل کر نہیں بلکہ ایک ہی طبیبہ سے علاج کروانا مناسِب رَہتا ہے کہ وہ طَبعی مزاج سے واقِف ہو جاتی ہے۔