(19) جو حیض اپنی پوری مدّت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دوصورتیں ہیں :(۱)یا توعور ت کی عادت سے بھی کم مدت میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دن حیض آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہیں گزرے تھے کہ خون بند ہوگیا۔ لہٰذا اس صورت میں صحبت ابھی جائز نہیں اگرچِہ غسل بھی کرلے ۔
(۲) اور اگرعادت سے کم مدّت حَیض نہیں آیا۔ مَثَلاً پہلے مہینے سات دن حیض آیا تھا اب بھی سات دن یا آٹھ دن حیض آکر ختم ہوگیا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو ان صورتوں میں صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں میں سے ایک بات ضَروری ہے:(الف)یا تو عورت غسل کرلے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تَیَمُّم کرنا ہو توتَیَمُّم کرکے نماز بھی پڑھ لے صرف تَیَمُّم کافی نہیں۔(ب)یا عورت غسل نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس عورت پر کوئی نمازِفرض،فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں وہ نہا کر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی ہے تو اس صورت میں بِغیر طہارت یعنی غسل کے بغیر بھی اس سے صُحبت جائز ہوجائے گی۔