| اسلامی بہنوں کی نماز |
اپنے کو قابو میں نہ رکھنے کا اندیشہ ہو تو شوہر کے لئے لازِم ہے کہ بیوی کو اپنے بستر پر نہ سُلائے بلکہ اگر گمان غالِب ہو کہ شَہوت پر قابو نہ رکھ سکے گا تو شوہر کو ایسی حالت میں بیوی کو اپنے ساتھ سلانا گناہ ہے۔
(بہارِشریعت حصہ۲ص۱۰۵)
(11) حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کو حلال سمجھنا کفر ہے اور حرام سمجھتے ہوئے کر لیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ کرنا فرض ہے۔ اور اگر شروع حیض و نِفاس میں ایسا کر لیا تو ایک دینار(1) اور اگر قریبِ ختم کے کیا تو نصف(یعنی آدھا) دینار خیرات کرنا مُستَحَب ہے (اَیضاًص۱۰۴)عجب نہیں کہ یہاں سونا دینا ہی انسب(یعنی مناسب تر) ہو
(فتاوی رضویہ ج۴ ص۳۶۴)
تاکہ خدا کے غضب سے امان پائے۔ اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خیرات کر دینے کا ذہن بنا کر معاذاللہ عزوجل جان بوجھ کر جِماع میں مبتلا ہو، اگر ایسا کیا تو سخت گنہگار اور جہنَّم کا حقدار ہے۔ دُرِّمُخْتار میں ہے: اس کامَصرف وُہی ہے جو زکوٰۃ کاہے۔ کیاعورت پر بھی صَدَقہ کرنا مُستَحَب ہے؟ ظاہر بات یہ ہے کہ عورت پر یہ حکم نہیں ہے۔
(دُرِّمُختار، ج۱ ص ۵۴۳ )
(12)روزے کی حالت میں اگر حیض ونِفاس شروع ہوگیا تو وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضا رکھے،فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نفل تھا تو قضا واجب ہے۔
(بہارِشریعت حصّہ۲ص۱۰۴)
(1) فتاوی رضویہ ج ۴ ص۳۵۶ پر ایک دینار دس درہم کے برابر لکھا ہے اس سے ماخوذ کر کے دینار سے مراد (دوتولہ ساڑے سات ماشہ30.618)گرام) چاندی یا اس کی رقم) بنتی ہے۔