(7)حیض و نفاس والی اسلامی بہن اگر عیدگاہ میں داخل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ (اَیضاً ص۱۰۲ )اِسی طرح فِنائے مسجِد میں بھی جا سکتی ہے۔ مَثَلاً دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی کا وسیع و عریض تہ خانہ جہاں اسلامی بہنوں کا سنّتوں بھرا اجتِماع ہوتا ہے یہ فِنائے مسجِد ہے یہاں حیض و نفاس والی آ سکتی ہے، اجتِماع میں شریک ہوسکتی ہے ۔ سنّتوں بھرا بیان بھی کر سکتی ہے نعت شریف بھی پڑ ھ سکتی ہے ، دُعا بھی کروا سکتی ہے۔
(8)حیض و نفاس کی حالت میں اگر مسجِدکے باہَر رہ کر اور ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز اٹھا لے یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دے تو جائز ہے ۔
(9)حیض و نِفاس والی کو خانۂ کعبہ کے اندر جانا اور اس کا طواف کرنا اگرچِہ مسجدالحرام کے باہَر سے ہو حرام ہے۔ (اَیضاً)
(10) حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کو اپنے بِستر پر سُلانے میں غلبۂ شہوت یا