( رَدُّالْمُحتَار،ج۱،ص۵۴۴)
(3) اِستحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ(بار بار خون آنے کے سبب) اس کو اتنی مُہلَت نہیں ملتی کہ وُضو کرکے فرض نَماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وَقت شروع سے آخِر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ،ایک وُضو سے اُس وَقت میں جتنی نَمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا وُ ضو نہ جائے گا۔
(بہارِ شريعت حصہ ۲ ص ۱۰۷)
(4)اگر کپڑاوغیرہ رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے، توعذر ثابت نہ ہوگا۔(یعنی ایسی صوررت میں '' معذور'' نہیں کہلائے گی) (اَیضاً)
(1)حیض ونِفاس کی حالت میں نَماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔
(بہارِ شريعت حصہ۲ص۱۰۲،عالمگیری ج۱ ص۳۸)
(2) ان دنوں میں نَمازیں مُعاف ہیں ان کی قضا بھی نہیں۔ البتَّہ روزوں کی قضا