ورنہ اگر تین دن رات تک رہا اور اس سے پہلے پندرہ دن پاک رہنے کا زمانہ گزر چکا ہے تو حَيض ہے اور جو تین دن سے پہلے ہی بند ہو گیا، یا ابھی پورے پندرہ دن طہارت کے نہیں گزرے ہیں تو اِستحاضہ ہے۔
چند غَلَط فہمیوں کا ازالہ
بچّہ جننے کے بعد سے لیکر نِفاس سے پاک ہونے تک عورت زَچّہ کہلاتی ہے ایسی عورت یعنی زَچّہ کو زَچّہ خانے سے نکلنا جائز ہے۔ اس کو ساتھ کھِلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں کوئی حرج نہیں، بعض اسلامی بہنیں زَچَّہ کے برتن تک الگ کردیتی ہیں بلکہ ان برتنوں کومَعاذَاللہ عزَّوَجَلَّ ایک طرح سے ناپاک سمجھتی ہیں ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحتیاط لازِم ہے۔ اِسی طرح یہ مسئلہ (مَس۔ئَ۔لہ)بھی من گھڑت ہے کہ زَچَّہ(نفاس والی ) جب غسل کرے تو وہ چالیس لوٹوں کے پانی سے غسل کرے ورنہ غسل نہیں اُترے گا۔صحیح مسئلہ یہ ہے کہ اپنی ضَرورت کے مطابِق پانی استِعمال کرے ۔