| اسلامی بہنوں کی نماز |
پانچ دن حیض آنے کی عادت تھی اب کی مرتبہ دس دن آیا تو یہ دسوں دن حیض کے مانے جائیں گے البتّہ اگر بارہ دن خون آیا تو عادت والے پانچ دن حیض کے مانے جائیں گے اور سات دن استحاضے کے اور اگر ایک عادت مقرَّر نہ تھی بلکہ کسی مہینے چار دن تو کسی مہینے سات دن حیض آتا تھا تو پچھلی مرتبہ جتنے دن حیض کے تھے وہی اب بھی حیض کے دن مانے جائیں گے، اور باقی استحاضے کا خون ہوگا۔
حَیض کی کم از کم اور انتہائی عمر
کم سے کم 9 برس کی عمر سے حَیض شروع ہوگا۔ اور حیض آنے کی اِنتہائی عمر پچپن سال ہے۔ اس عمر والی کو آئسہ (یعنی حیض و اولاد سے نا امید ہونے والی) کہتے ہیں۔(بہارِ شريعت حصہ۲ص۹۴) نو برس کی عمر سے پہلے جو خون آئے گا وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے یوں ہی 55برس کی عمر کے بعد جو آئے گا وہ بھی استحاضہ ہے۔ لیکن اگر کسی کو55 برس کی عمر کے بعد بھی خالِص خون بالکل ایسے ہی رنگ کا آیا جیسا کہ حیض کے زمانے میں آیا کرتا تھا تو اس کو حیض مان لیا جائے گا۔
دوحَیض کے درمیان کم از کم فاصلہ
دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پورے 15 دن کا فاصلہ ضَروری ہے ۔
(دُرِّمُختَارج۱ص۵۲۴)
اسلامی بہن کو چاہئے کہ وہ حيض آنے کی مدّت اچّھی طرح یاد رکھے یا لکھ لے تاکہ شریعتِ مُطَہَّرہ پر اَحسن طریقے سے عمل کرسکے، مدّتِ حیض یاد