| اسلامی بہنوں کی نماز |
بالِغہ عورت کے بدن میں فطرتاً ضَرورت سے کچھ زیادہ خون پیدا ہوتا ہے کہ حَمْل کی حالت میں وہ خون بچّے کی غذا میں کام آئے اور بچّے کے دودھ پینے کے زمانے میں وہی خون دودھ ہوجائے اگر ایسا نہ ہو توحَمْل اور دودھ پِلانے کے زمانے میں اِس کی جان پر بن جائے یہی وجہ ہے کہ حَمْل اور ابتدائے شِیر خوارگی(یعنی دودھ پلانے) میں خون نہیں آتا اور جس زمانہ میں نہ حَمْل ہو اور نہ دودھ پلانا تب وہ خون اگر بدن سے نہ نکلے تو قسم قسم کی بیماریاں ہوجائیں ۔
(بہارشریعت حصہ۲ ص۹۳)
حَیض کی مُدّت
حیض کی کم سے کم مُدّت تین دن اور تین راتیں یعنی پورے 72 گھنٹے ہیں۔ اگر ایک مِنَٹ بھی کم ہوا تو وہ حیض نہیں بلکہ اِستِحاضہ یعنی بیماری کا خون ہے اور زیادہ سے زیادہ مُدّت دس دن اور دس راتیں یعنی 240گھنٹے ہیں ۔
کیسے معلوم ہو کہ اِستِحاضہ ہے
اگر دس دن اور دس رات سے زیادہ خون آیا تو اگر یہ حیض پہلی مرتبہ آیا ہے تو دس دن تک حیض مانا جائے گا۔ اور اس کے بعد جو خون آیا وہ استحاضہ ہے، اوراگر پہلے عورت کو حیض آچکے ہیں اور اس کی عادت دس دن سے کم تھی تو عادت سے جتنے دن زیادہ خون آیا وہ استحاضہ ہے، مثال کے طور پر کسی عورت کو ہر مہینے میں