صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادي علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں:عرب کے لوگ یہود و مجوس کی طرح حائضہ عورتوں سے کمال نفرت کرتے تھے۔ ساتھ کھانا پینا ایک مکان میں رہنا گوارا نہ تھا بلکہ شدت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی طرف دیکھنا اور ان سے کلام کرنابھی حرام سمجھتے تھے اور نصارٰی (یعنی کرسچن)اس کے برعکس حیض کے ایّام میں عورَتوں کے ساتھ بڑی مَحَبَّت سے مشغول ہوتے تھے اور اِختِلاط (میل جُول) میں بَہُت مُبالَغہ کرتے تھے۔ مسلمانوں نے حُضُور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے حیض کاحکم دریافت کیا،اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور افراط وتَفریط (یعنی بڑھانے گھٹانے )کی راہیں چھوڑ کر اعتِدال (میانہ روی)کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حالتِ حیض میں عورَتوں سے مُجامَعَت (یعنی صحبت)ممنوع ہے۔