ایک بار کسی بِھکاری نے کُفّار سے سُوال کیا، اُنہوں نے مذاقاً حضرتِ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے پاس بھیج دیا جو کہ سامنے تشریف فرما تھے ۔ اُس نے حاضِر ہو کردَسْتِ سُوال دراز کیا۔ آ پ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے دس بار دُرُود شریف پڑھ کر اُس کی ہتھیلی پر دم کر دیا اور فرمایا: مُٹھّی بندکر لواور جن لوگوں نے بھیجا ہے اُن کے سامنے جا کر کھولدو۔ (کُفّار ہنس رہے تھے کہ خالی پھونک مارنے سے کیا ہوتا ہے!) مگر جب سائل نے اُن کے سامنے جاکر مُٹّھی کھولی تو وہ سونے کے دِیناروں سے بھری ہوئی تھی ! یہ کرامت دیکھ کر کئی کافِر مسلمان ہو گئے ۔