ایک تحقیق کے مطابِق مِٹّی میں نَوشادَر( AMMONIUM CHLORIDE) نیز بدبُودُور کرنے والے بہترین اَجزا موجود ہیں۔ پیشاب اور فُضلہ جَراثیم سے لبریز ہوتا ہے ، اِس کا جسمِ انسانی پر لگنا نقصان دِہ ہے ۔ اِس کے اَجزا بدن پرچپکے رَہ جا نے کی صورت میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ '' ڈاکٹر ہلوک '' لکھتا ہے: اِستِنجا کے مِٹّی کے ڈَھیلے نے سائنسی دنیا کو وَرطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے ۔ مِٹّی کے تمام اَجزاء جراثیم کے قاتل ہوتے ہیں لہٰذا مِٹّی کے ڈَھیلے کے استِعمال سے پردے کی جگہ پر موجود جراثیم کا خاتِمہ ہو جاتا ہے بلکہ اِس کا استِعمال '' پردے کی جگہ کے کینسر'' (CANCER OF PENIS) سے بچاتا ہے۔
بُڈھے کافِر ڈاکٹر کاانکِشاف
اسلامی بہنو! سنّت کے مطابق قضائے حاجت کرنے میں آخِرت کی سعادت اور دنیا میں بیماریوں سے حفاظت ہے۔ کفّار بھی اسلامی اطوار کا خواہی نہ