Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
202 - 308
گئی ، یعنی اس سے وَسوسوں اور وَہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تجرِبہ ہے یا گندی چِھینٹیں پڑنے کا وَسوَسہ رہے گا۔
        ( مراٰۃ ج ۱ ص ۲۶۶)
استنجا کے ڈھیلوں کے احکام
 (1)آگے پیچھے سے جب نَجاست نکلے تو ڈھیلوں سے استِنجا(اِس۔تِن۔جا) کرنا سنّت ہے، اور اگر صِرف پانی ہی سے طہارت کر لی تو بھی جائز ہے ، مگرمُستَحَب یہ کہ ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طَہارت کرے۔ فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد 4 صَفْحَہ 598 پر ہے: سُوال: عورت بعد پیشاب کلوخ ( یعنی ڈھیلا) لے یا صِرف پانی سے استِنجا کرے؟ جواب: دونوں کا جمع کرنا افضل ہے اور اس کے حق میں کُلُوخ (یعنی ڈھیلے) سے کپڑا بہتر ہے(2) آگے اور پیچھے سے پیشاب ،پاخانہ کے سوا کوئی اَور نَجاست ، مَثَلاًخون، پیپ وغیرہ نکلے، یا اس جگہ خارِج سے نَجاست لگ جائے توبھی ڈَھیلے سے صاف کر لینے سے طہارت ہو جائے گی، جب کہ اس مَوضع(یعنی جگہ ) سے باہَر نہ ہو مگر دھو ڈالنامُستَحَب ہے (3)ڈَھيلوں کی کوئی تعداد مُعَیَّن (یعنی مقرَّرہ تعداد) سنّت نہیں، بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے، تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنّت ادا ہوگئی اور اگر تین ڈَھیلے ليے اور صفائی نہ ہوئی سنّت ادا نہ ہوئی، البتّہ مُستَحَب یہ ہے کہ طاق (مَثَلاً ایک،تین ،پانچ )ہوں اور کم سے کم تین ہوں تو اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے، اور اگر چار سے صفائی ہو توایک اور لے، کہ طاق ہو جائیں ۔
Flag Counter