اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:''کوئی غُسل خانہ میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں نہائے یا وُضو کرے کہ اکثر وَسوسے اس سے ہوتے ہیں۔
(سُنَنُ اَ بِی دَاو،د،ج۱ص۴۴ حديث ۲۷)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :اگر غسل خانے کی زمین پختہ ہو ،اور اس میں پانی خارِج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حَرَج نہیں اگر چِہ بہتر ہے کہ نہ کرے، لیکن اگر زمین کچّی ہو، اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت بُرا ہے کہ زمین نَجس ہو جائے گی ، اور غسل یا وُضُو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔ یہاں دوسری صورت ہی مُراد ہے اِس لیے تاکیدی مُمانَعَت فرمائی