Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
198 - 308
(18) خوامخواہ دیر تک اِستِنجا خانے میں نہ بیٹھے کہ بواسیر ہونے کا اندیشہ ہے (19تا25) پیشاب میں نہ تھوکے، نہ ناک صاف کرے، نہ بِلاضَرورت کھنکارے ،نہ بار بار اِدھر اُدھر دیکھے، نہ بیکار بدن چھوئے، نہ آسمان کی طرف نگاہ کرے ،بلکہ شرم کے ساتھ سر جھکائے رہے۔(26) قضائے حاجت سے فارِغ ہونے کے بعد پہلے پیشاب کامقام دھوئے پھر پاخانہ کا مقام(27) عورت کے لئے پانی سے اِستِنجا کرنے کا مُستَحَب طریقہ یہ ہے کہ ذرا  کُشادہ ہو کر بیٹھے اور سیدھے ہاتھ سے آہِستہ آہِستہ پانی ڈالے اور اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی سے نَجاست کے مقام کو دھوئے،لوٹا اُونچا رکھے کہ چھینٹیں نہ پڑیں سیدھے ہاتھ سے اِستنجا کرنا مکروہ ہے اور دھونے میں مُبالَغہ کرے یعنی سانس کا دباؤ نیچے کی جانِب ڈالے یہاں تک کہ اچّھی طرح نَجاست کا مَقام دُھل جائے یعنی اس طرح کہ چِکنائی کا اثر باقی نہ رہے اگر عورت روزہ دار ہو تو پھر مُبالَغہ نہ کرے (28)طہارت حاصِل ہونے کے بعد ہاتھ بھی پاک ہوگئے لیکن بعد میں صابُن وغیرہ سے بھی دھولے۔
 (بہار شریعت حصہ ۲ ص ۱۳۱ ۔ ۱۳۲ ، رَدُّالْمُحتار ج۱ص۶۱۵ وغیرھما)
 (29)جب اِستِنجا خانے سے نکلے تو پہلے سیدھاقدم باہَر نکالے اور باہر نکلنے کے بعد (اوّل آخر درود شریف کے ساتھ )یہ دعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَا فَانِیْ
 ( سُنَن ابن ماجہ ج۱ص۱۹۳حدیث۳۰۱)
یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو دور کیا اور مجھے عافیت (راحت ) بخشی ۔
Flag Counter