وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ؕ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿۳۶﴾
بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کہ ایک حدیث میں ہے: ''اے انس! جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اس میں سات بار استخارہ کر پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گزرا کہ بیشک اُسی میں خیر ہے۔'' (ایضاً)
اور بعض مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام سے منقول ہے کہ دُعائے مذکور پڑھ کر باطہارت قبلہ رُو سو رہے اگر خواب میں سفیدی یا سبزی دیکھے تو وہ کام بہتر ہے اور سیاہی یا سُرخی دیکھے تو بُرا ہے اس سے بچے۔ (ایضاً)
استخارہ کا وقت اس وقت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جم نہ چکی ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
صَلٰوۃُ الْاَوَّابِیْن کی فضیلت
حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت،