(سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج۲ص۴۱حديث ۱۲۸۷ )
حدیثِ پاک کے اس حصّے '' اپنے مصلّے میں بیٹھا رہے'' کی وضاحت کرتے ہو ئے حضرتِ سیِّدُنا مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری فرماتے ہیں: یعنی مسجد یا گھر میں اِس حال میں رہے کہ ذِکر یا غوروفکرکرنے یا علمِ دین سیکھنے سکھانے یا '' بیتُ اللہ کے طواف میں مشغول رہے'' نیز '' صرف خیر ہی بولے'' کے بارے میں فرماتے ہیں:'' یعنی فجر اور اشراق کے درمیان خیر یعنی بھلائی کے سوا کوئی گفتگو نہ کرے کیونکہ یہ وہ بات ہے جس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے۔
(مرقاۃج۳ ص۳۹۶ تحت الحدیث۱۳۱۷)
''نمازِ اِشراق کا وقت:سورَج طُلُوع ہونے کے کم از کم بیس یا پچیس مِنَٹ بعد سے لے کر ضحو ہ ٔ کُبریٰ تک نَمازِ اِشراق کا وَقت رہتا ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد