حضرتِ سیِّدنا قاسم بن راشد شیبانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کہتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا زَمعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مُحَصَّب میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی زوجہ اوربیٹیاں بھی ہمراہ تھیں ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رات کو اٹھے اوردیر تک نَماز پڑھتے رہے۔ جب سَحری کا وقت ہوا تو بُلندآواز سے پکارنے لگے:'' اے رات میں پڑاؤ کرنے والے قافِلے کے مسافِرو !کیا ساری رات سوتے رہوگے ؟ کیا اٹھ کرسفر نہیں کروگے ؟'' تو وہ لوگ جلدی سے اٹھ گئے اورکہیں سے رونے کی آواز آنے لگی اورکہیں سے دعا مانگنے کی، ایک جانب سے قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز سنائی دی تو دوسری جانب کوئی وُضو کر رہا ہوتا۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بلند آواز سے پکارا : '' لوگ صبح کے وقت چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔''