| اسلامی بہنوں کی نماز |
قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے(یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے لئے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی)۔ جب سردی کا موسم آتا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سونہ سکیں(کیوں کہ A.C.کُجا ان دنوں بجلی کا پنکھا بھی نہ ہوتا تھا!)۔ سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔ آپ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں توبھی میری ملاقات کو پسند فرما ۔ ''
(اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین ج۱۳ ص۲۴۷،۲۴۸)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عفو کر اور سدا کیلئے راضی ہو جا گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یا رب!
(6)روتے روتے نابینا ہوجانے والی خاتون
حضرتِ سیِّدنا خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم رحلہ عابِدہ کے پاس گئے۔یہ بکثرت روزے رکھتی تھیں اوراتنا روتیں کہ ان کی بینائی جاتی رہی اوراتنی کثرت سے نمازیں پڑھتی کہ کھڑی نہ ہوسکتی تھیں ،لہٰذا بیٹھ کر ہی نماز پڑھتی تھیں۔ ہم نے انہیں سلام کیا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عَفو وکرم کا تذکِرہ کیا تاکہ ان پر معاملہ آسان