مشہور صحابی حضرتِ سیِّدُناعبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب لوگوں کے سوجانے کے بعد اُٹھ کر قِیام (یعنی عبادت)فرمایا کرتے تو ان سے صبح تک شہد کی مکھی کی سی بھنبھناہٹ سُنائی دیتی۔
( اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج۱ص۴۶۷)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محبت میں اپنی گما یا الہٰی
نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی
(3)میں جنَّت کیسے مانگوں!
حضرتِ سیِّدُناصِلَہ بن اَشْیَم علیہ رَحْمَۃُ اللہِ الاکرم ساری رات نَماز پڑھتے ۔ جب سحری کاوقت ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کرتے ،الہٰی ! میرے جیسا آدمی جنّت نہیں مانگ سکتا لیکن تو اپنی رَحمت سے مجھے جہنَّم سے پناہ عطا فرما۔''
(اِحْیَاءُ الْعُلُوْم،ج۱ص۴۶۷)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان