مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مِراۃ المناجیح جلد2 صَفْحَہ260 پر اِس حصّۂ حدیث'' وَتَابَعَ الصِّیامَ '' یعنی مُتواتِر روزے رکھے '' کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:یعنی ہمیشہ روزے رکھیں سوا ان پانچ دنوں کے جن میں روزہ حرام ہے یعنی شوال کی یکم اور ذی الحجہ کی دسویں تا تیرھویں یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو ہمیشہ روزے رکھتے ہیں بعض نے فرمایا کہ اس کے معنیٰ ہیں ہر مہینے میں مسلسل تین روزے رکھے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
''تہجد گزار'' کے آٹھ حُروف کی نسبت سے نیک بندوں اور بندیوں کی 8حکایت
(۱)ساری رات نَماز پڑھتے رہتے
حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیزبن روادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد رات کو سونے کے لئے اپنے بستر پر آتے اوراس پر ہاتھ پھیر کر کہتے:''تُو نرم ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جنَّت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے ۔''
( اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، ج ۱ ص ۴۶۷)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے