مغرِب کی نَماز کا وقت غُروبِ آفتاب تا ابتِدائے وقتِ عشاء ہوتا ہے ۔ یہ وقت مقامات اور تاریخ کے اعتِبار سے گھٹتا بڑھتا رَہتا ہے مَثَلاً بابُ المدینہ کراچی میں نظام ُالاوقات کے نقشے کے مطابِق مغرِب کا وَقت کم از کم ایک گھنٹہ 18 مِنَٹ ہوتا ہے۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام فرماتے ہیں:روزِاَبر (یعنی جس دن بادَل چھائے ہوں اس )کے سوا مغرِب میں ہمیشہ تَعِجیل( یعنی جلدی) مُستَحَب ہے اور دو رَکعَت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور بغیر عُذرِ سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ سِتارے گُتھ گئے تو مکروہِ تَحریمی۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: اِس( یعنی مغرِب) کا وَقتِ مُستَحب جب تک ہے کہ ستارے خوب ظاہِر نہ ہو جائیں ، اتنی دیر کرنی کہ(بڑے