Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
160 - 308
چار رَکعَت سنّتِ قبلِیہ ادا کیجئے چُنانچِہ سرکارِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:ظہر کی پہلی چار سنّتیں جو فرض سے پہلے نہ پڑھی ہوں تو بعدِ فرض بلکہ مذہبِ اَرجَح (یعنی پسندیدہ ترین مذہب) پر بعد (دو رکعت) سنّتِ بَعدِ یہ کے پڑھیں بشرطیکہ ہُنُوز(یعنی ابھی) وقتِ ظُہر باقی ہو۔
(فتاوٰی رضویہ ،ج۸،ص ۱۴۸مُلَخَّصاً)
عصروعشاء سے پہلے جوچار چار رَکعَتیں ہیں وہ سُنَّتِ غیرمُؤَکَّدہ ہیں ان کی قَضاء نہیں ۔
کیا مغرِب کاوَقت تھوڑا سا ہوتا ہے؟
    مغرِب کی نَماز کا وقت غُروبِ آفتاب تا ابتِدائے وقتِ عشاء ہوتا ہے ۔ یہ وقت مقامات اور تاریخ کے اعتِبار سے گھٹتا بڑھتا رَہتا ہے مَثَلاً بابُ المدینہ کراچی میں نظام ُالاوقات کے نقشے کے مطابِق مغرِب کا وَقت کم از کم ایک گھنٹہ 18 مِنَٹ ہوتا ہے۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام فرماتے ہیں:روزِاَبر (یعنی جس دن بادَل چھائے ہوں اس )کے سوا مغرِب میں ہمیشہ تَعِجیل( یعنی جلدی) مُستَحَب ہے اور دو رَکعَت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور بغیر عُذرِ سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ سِتارے گُتھ گئے تو مکروہِ تَحریمی۔
( بہارِ شريعت حصہ۳ص۲۱)
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: اِس( یعنی مغرِب) کا وَقتِ مُستَحب جب تک ہے کہ ستارے خوب ظاہِر نہ ہو جائیں ، اتنی دیر کرنی کہ(بڑے
Flag Counter